منگلورو، 16؍ اکتوبر (ایس او نیوز) 'آیودھا پوجا' کے موقع پر وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی طرف سے اپنے خاص رضا کاروں کو "ترشول دیکشا" دئے جانے پر سوشیل میڈیا کے علاوہ عوامی حلقوں میں اس حرکت کی مخالفت نے زور پکڑا ہے ۔ اس کے جواب میں جارحانہ دفاعی بیان جاری کرتے ہوئے وشوا ہندو پریشد لیڈر شرن پمپ ویل نے کہا ہے کہ ہم نے بم اور ہتھ گولے تقسیم نہیں کیے ۔
شرن نے کہا :" بہت سے لوگ بجرنگ دل رضا کاروں کے لئے 'ترشول دیکشا' پروگرام کی مخالفت کررہے ہیں ۔ ہم نے بم یا گرینیڈس نہیں دئے ۔ ہم نے ترشول دیکشا دی ہے ۔ ہم طاقت کی پوجا کرنے والے ہیں ۔ ہم نے ہمارے رضا کاروں کو خود اپنے دفاع اور دھرم کے تحفظ کے لئے دیا ہے ۔ 'ترشول دیکشا' کا یہ پروگرام ہم نے ہمارے رضا کاروں میں خود اعتمادی اور ہمت پیدا کرنے کے لئے منعقد کیا ہے ۔"
وی ایچ پی کے زونل لیڈر شرن پمپ ویل نے مزید کہا کہ : 'ترشول دیکشا' نئے بھرتی ہونے والے رضا کاروں کو دی جاتی ہے ۔ کووڈ کی وجہ سے گزشتہ دو سال ہم یہ پروگرام منعقد نہیں کرپائے ۔ اس مرتبہ آیودھا پوجا کے موقع پر اس کا انعقاد ہوا ۔ یہ کسی کے خلاف نہیں ہے ۔ یہ قتل کرنے یا نقصان پہنچانے کے لئے نہیں دیا جارہا ہے ۔ یہ رضا کاروں کی خود اعتمادی بڑھانے کے لئے ہے ۔ 'ترشول' اسٹیل کے بنے ہیں اور زیادہ تیز دھار والے نہیں ہیں ۔ ہم نے قانون کے مطابق پروگرام منعقد کیا ہے ۔ ہم نے یہ پروگرام عوامی مقام پر نہیں بلکہ ہمارے دفتر میں منعقد کیا ۔ جن اراکین کو مختلف ذمہ داریاں ادا کرنی ہوتی ہیں انہیں یہ 'دیکشا' دی جاتی ہے ۔"